سزا ختم نہیں معطل ہوئی ہے، لاڈلے کو ریلیف دینا مقصود تھا، عطا تارڑ

---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

رہنما ن لیگ عطا اللّٰہ تارڑ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے حکم پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نظر نہیں آتی، سزا ختم نہیں ہوئی، سزا معطل ہوئی ہے، لاڈلے کو ریلیف دینا مقصود تھا۔

عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ توشہ خانہ پر شادیانے بجانے والوں نےبہت جلدی کی، مٹھائی نہ کھائیں، ابھی سائفر کا کیس لڑیں، سزا معطل ہونے پر بہت جلدی مٹھائی نہ کھا لیجیے گا، سزا اپنی جگہ قائم ہے، یہ ضمانت کی طرح ہے، اپیل میرٹ پر ہوگی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جج نے جوڈیشل ریمانڈ پر دیا تھا جو کل ختم ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ ملک میں 9 مئی جیسے واقعات ہوئے، عطا تارڑ نے چیئرمین پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ چور ہے، اس کی چوری ثابت شدہ ہے، اس نے توشہ خانہ کے تحائف بلیک مارکیٹ میں بیچے، دنیا بھر میں توشہ خانہ کے تحائف کو یادگار کےطور پر رکھا جاتا ہے، یہ واحد آدمی ہے جس نے توشہ خانہ کے تحائف کا کاروبار بنایا، ریاست مدینہ کا دعویدار، آج تک نہیں بولا کہ چوری نہیں کی، چوری کا جواب دیں ناں، بتائیں گھڑیاں کیوں بیچی تھیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اس نے عدالت اور الیکشن کمیشن میں تسلیم کیا کہ توشہ خانہ کے تحائف بیچے، اس سارے کھیل میں صدرمملکت بھی شامل ہیں، صدرمملکت نے 14 اگست کو اپنے ہی پارٹی چیئرمین کی سزا 6 ماہ کم کردی۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ سائفر کا کیس جینوئن کیس ہے، سائفر جلسے میں لہرایا گیا، بھگتنا تو پڑے گا۔

عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جج ہمایوں دلاور نے دو دن گواہوں کا انتظار کیا، بات توتب تھی جب بطور گواہ توشہ خانہ کے سیکریٹری کو پیش کرتے، اپنے گھر کے گواہ لے آئے، یہ گواہ ان کے اپنے لوگ تھے، توشہ خانہ کیس کا ٹرائل 11 ماہ چلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے جج ظفر اقبال تھے، ان پر حملےکیے گئے تو کیس ہمایوں دلاور کو ٹرانسفر ہوا، چالیس بار حاضری معافی کی درخواستیں منظور ہوئیں، جج ہمایوں دلاور نے یہی تو کہا کہ گواہ غیرمتعلقہ ہیں، چوری کی ہے، ڈکلیئر نہیں کیا ہے، بلیک مارکیٹ میں بیچا ہے۔

عطا تارڑ کا اپنی پریس کانفرنس کے دوران مزید کہنا تھا کہ تکنیکی بنیادوں پر کھیلیں گے، جیسے فارن فنڈنگ کا کیس 6 سال چلایا، سزا معطلی کی درخواست میں میرٹ ڈسکس نہیں کیے جاتے، سپریم کورٹ کے بینچ نے آؤٹ آف ٹرن ساری چیزیں ڈسکس کر دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جتنا بڑا یہ ریاست مدینہ کا دعویدار ہے آ کے کہتا میں ہر چیز کا جواب دوں گا، آپ تاخیری حربے استعمال کر رہے تھے کیونکہ آپ کو پتہ تھا چوری کی ہے۔

عطا تارڑنے کہا ہے کہ سائفر کیس میں شاہ محمود گرفتار اور اسد عمر ضمانت پر ہیں، صدر نے سزا 6 مہینےکم کرنے کی منظوری دی اس پر شرم آنی چاہیے تھی۔

عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’گڈ ٹو سی یو‘ نے آپ کیلئے معاملات تھوڑے سے ٹھیک کر دیے ہیں،ملک میں پہلی بار کیس ہائیکورٹ میں ہوتے ہوئےسپریم کورٹ نے احکامات جاری کیے، انہوں نے جو کچھ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیا وہ افسوسناک ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے پاس تو کوئی آپشن ہی نہیں تھا۔



اپنی رائے کا اظہار کریں