گردے میں پتھری بننے سے بچاؤ کیلئے کن غذاؤں سے پرہیز لازمی ہے؟

---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

ایک نئی تحقیق کے نتائج میں میٹھی غذاؤں اور مشروبات کو گردے میں پتھری بننے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

گردوں میں پتھری کا بن جانا ایک تکلیف دہ مرض ہے جس کا علاج بھی کافی پیچیدہ ہوتا ہے، پتھری کے ایک بار خاتمے کے بعد اس کے دوبارہ بننے کے خطرات پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

امریکی تحقیق کے نتائج کے مطابق دنیا میں ہر 11 میں سے ایک شخص کے گردوں میں پتھری پیدا ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گردوں میں پتھری کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں پانی کم پینا، خاندانی ہسٹری کا ہونا، کیلشیئم کا زیادہ استمعال، موٹاپا، ذیابطیس اور مخصوص غذاؤں خصوصاً میٹھی غذاؤں کا زیادہ استعمال شامل ہے۔

حال ہی میں غیر ملکی میڈیا ’فرنٹیئرز نیوٹریشن‘  میں ایک تحقیق کے نتائج شائع کیے گئے ہیں۔

اس تحقیق میں امریکی ماہرین نے 28 ہزار سے زائد افراد پر 11 سال تک تحقیق کی، اس تحقیق میں مرد اور خواتین رضاکار  شامل تھیں اور تمام رضاکاروں کو گردوں میں پتھری کی شکایت تھی، ماہرین نے تحقیق کے دوران تمام افراد سے غذائیت سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے سمیت ان کی دیگر طبی علامات کا بھی جائزہ لیا۔

اس تحقیق سے اخذ کیے گئے نتائج سے معلوم ہوا کہ غذا کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ میٹھی چیزیں کھانے اور پینے والے افراد کے گردوں میں پتھری پیدا ہونے کے امکانات 88 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں،  ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصی طور پر ایسی غذاؤں اور مشروب کا استعمال گردوں میں پتھری بنانے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے جن میں چینی شامل ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں ہمارا میٹھی غذاؤں سے مطلب کولڈ ڈرنکس، سوڈا واٹر، رنگین مشروبات، آئس کریم، کیک اور گھر میں بنائے جانے والے دیگر میٹھے کھانے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق چینی اور مٹھاس بلڈ پریشر اور شوگر بڑھانے سمیت وزن بڑھانے کا بھی سبب بنتی ہے، اسی لیے ممکنہ طور پر یہ سب چیزیں مل کر گردوں میں پتھری بنانے کے عمل کو تیز اور آسان بنا دیتی ہیں۔

محقیقین نے تحقیق کے نتائج سے یہ بھی اخذ کیا ہے کہ زیادہ مٹھاس کا استعمال پیشاب میں کیلشیم کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر گردوں میں پتھری بن سکتی ہے۔



اپنی رائے کا اظہار کریں