برطانوی وزیر تعلیم نے الفاظ کے چناؤ پر معافی مانگ لی

فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا
فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا

برطانیہ کی وزیر تعلیم گیلین کیگن نے اسکولوں کی خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کے حوالے سے گفتگو کے دوران استعمال کیے گئے اپنے الفاظ پر معافی مانگ لی۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیر نے اسکولوں کی غیر محفوظ عمارتوں کے معاملے پر ان کے کام کی تعریف نہ کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ میں نئی میعاد کے آغاز سے چند دن قبل اسکولوں کی عمارتیں گرنے کے انکشافات نے والدین اور اساتذہ میں غصے اور تشویش کو جنم دیا ہے جبکہ 104 اسکولوں کو بند کرنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت اس حوالے سے ہونے والے سروے کے بعد انگلینڈ کے 15 ہزار اسکولوں میں سے 10 فیصد کے جوابات کا انتظار کر رہی ہے۔

برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گیلین کیگن کی جانب سے نامناسب لفظوں کے استعال کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر زور پکڑ گیا۔

برطانوی وزیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوسروں کے مقابلے میں اس معاملے پر زیادہ کام کیا ہے۔

انہوں نے انٹرویو کے دوران نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی کوئی یہ کہتا ہے کہ تم نے اچھا کام کیا کیونکہ باقی سب بیٹھے رہے اور کچھ نہیں کیا۔

بعدازاں گیلین کیگن نے اپنی بات پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ غیر ضروری تھے۔

سوشل میڈیا پر برطانوی وزیر نے لکھا کہ میں جانتی ہوں کہ والدین پریشان ہیں اور میں اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے نان اسٹاپ کام کر رہی ہوں۔

دوسری جانب برطانوی وزیر رشی سونک کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ گیلین کیگن کے الفاظ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں تاہم وزیراعظم ان کی معذرت سے مطمئن ہیں۔



اپنی رائے کا اظہار کریں