مہنگائی کے ماروں کیلئے ایک کپ چائے پینا بھی مشکل ہوگیا

مہنگائی کے ماروں کیلئے ایک کپ چائے پینا بھی مشکل ہوگیا

چینی کی بڑھتی قیمت نے مہنگائی کی ٹینشن کے ماروں کےلیے ایک کپ چائے پینا بھی مشکل بنادیا ہے۔

کراچی میں چینی، دودھ اور پتی کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے چائے بھی شہریوں کی استطاعت سے باہر ہوگئی۔

دوستوں کے ساتھ شام کی چائے کی میز پر بیٹھنا اب پہلے سے زیادہ مہنگا پڑگیا، دراصل کراچی کے چائے خانوں اور ڈھابوں میں چائے کی قیمتیں بڑھادی گئیں۔

کراچی میں کٹ چائے کا کپ 50 روپے کے بجائے 60 روپے میں فروخت کیا جانے لگا۔

سادہ چائے کے کپ کی قیمت میں بھی 10 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 60 کے بجائے 70 روپے میں ہوٹلوں پر دستیاب ہے۔

شہر قائد میں دودھ پتی چائے کے کپ کی قیمت بھی 10 روپے بڑھادی گئی، چائے کے شوقین افراد کو اب یہ 70 کے بجائے 80 روپے میں ملے گا۔

مہنگائی کے ستائے عوام کی وجہ سے کراچی میں چائے کے ہوٹلوں پر رش کم ہوگیا۔

دوسری طرف بعض ایسے لوگ بھی ہیں، جنہوں نے چائے کو مجبوری قرار دیا اور کہا کہ اسے چھوڑ نہیں سکتے، دودھ اور چینی کم ڈال کر بھی چائے تو پئیں گے۔

ہوٹل مالکان نے کہا کہ چینی مہنگی ہونے کی وجہ سے 60 روپے والا چائے کا کپ 70 روپے کا ہوگیا ہے، اس کی دوسری وجہ دودھ اور پتی کے ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہے۔

ادھر پشاور میں بھی چینی مہنگی ہونے پر چائے خانوں اور ڈھابوں پر چائے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

پشاور میں بڑی چائے کی چینک پر 30 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 120 کے بجائے 150 روپے میں مل رہی ہے۔

درمیانے سائز کی چائے کی چینک 50 روپے سے بڑھ کر 80 روپے تک پہنچ گئی ہے۔



اپنی رائے کا اظہار کریں