کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنیوالے ترک شہری کو 11 ہزار سال قید کی سزا

فاروق فتح اوزر، فوٹو ایکس
فاروق فتح اوزر، فوٹو ایکس

ترک کرپٹو کرنسی ایگزیکٹو اور اس کے دو بہن بھائیوں کو لاکھوں ڈالر کا فراڈ کرنے کے جرم میں 11 ہزار سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، 29 سالہ فاروق فتح اوزر تھوڈیکس ایکسچینج ٹوٹنے کے بعد2021ء میں البانیہ فرار ہو گیا تھا جس کے بعد اسے جون میں ترکیہ واپس بھیج دیا گیا اور اسے منی لانڈرنگ اور فراڈ جیسے جرائم میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فاروق فتح اوزر نے دعویٰ کیا ہے کہ میں زمین پر کسی بھی ادارے کی قیادت کرنے کے لیے ایک ہوشیار آدمی ہوں اور یہ بات اس کمپنی کے قیام سے ظاہر ہے جوکہ میں نے 22 سال کی عمر میں قائم کی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ استنبول کے مقدمے میں اس کی بہن سیراپ اور بھائی گووین کو بھی انہی الزامات کا مجرم پایا گیا اور متعدد جرائم  میں 2,027 متاثرین کو نقصان پہنچانے کے لیے الگ الگ سزائیں سنائی گئیں، جس کی وجہ سے فیصلے میں ایک سال کا اضافہ ہوگیا۔

واضح رہے کہ ترکیہ میں 2004ء سے  سزائے موت کے خاتمے کے بعد سے اس طرح کی غیر معمولی سزائیں سنائی جانا ایک عام بات ہے۔

اس سے قبل 2022ء میں عدنان اوکتار نامی ایک مبلغ کو دھوکہ دہی اور جنسی جرائم میں ملوث پائے جانے پر 8,658 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔



اپنی رائے کا اظہار کریں