بھارت میں پھوٹنے والے بدترین وائرس ’نیپا‘ کی علامات اور علاج کیا ہے؟

---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

بھارتی ریاست کیرالہ میں کورونا سے بھی بدتر وائرس نیپا کی نئی لہر کے سبب دو افراد پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کے محکمہ صحت کی جانب سے ضلع کوزی کوڈ میں دو غیر فطری اموات کے سبب ’نیپا الرٹ‘ جاری کر دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیرالہ کے ضلع کوزی کوڈ میں بخار سے دو ’غیر فطری اموات‘ کے بعد نیپا وائرس کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، نیپا وائرس سے مرنے والے افراد میں سے ایک کا رشتے دار آئی سی یو میں ہے جس کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل نیپا وائرس بھارتی ریاست کیرالہ ہی میں 2018ء اور 2021ء میں دو بار سر اٹھا چکا ہے جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئی تھیں۔

2018ء میں عالمی ادارہ صحت WHO کی جانب سے نیپا وائرس کو بھی وبائی امراض کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

نیپا وائرس ہے کیا ؟

نیپا وائرس انسانی دماغ کو متاثر کرنے والا ایک انتہائی مہلک وائرس ہے، یہ وائرس چمگادڑ سے پیدا ہوتا ہے جو جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے  دوسرے جانوروں میں پھیلتا اور انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔

نیپا ایک ایسی بیماری ہے جس میں شرح اموات زیادہ ہوتی ہے، شمال مشرقی افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا میں نیپا وائرس کی وجہ سے متعدد بیماریاں پھیل چکی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپا وائرس 1998ء میں سب سے پہلے ملیشیا کے ایک قصبے نیپا میں سؤروں میں پایا گیا تھا جس کے بعد سے اس  وائرس کا نام نیپا رکھ دیا گیا۔

نیپا وائرس کی علامات کیا ہیں؟

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نیپا وائرس سے متاثرہ شخص میں تیز بخار، سر درد، کھانسی، گلے کی سوزش، جسم میں درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش کی علامات پائی جاتی ہیں، یہ علامات 24 سے 48 گھنٹوں میں مریض کو کومے کی صورتحال تک لے جا سکتی ہیں۔

نیپا وائرس سے ہونے والے انفیکشن کے ابتدائی مرحلے میں سانس لینے میں دشواری جبکہ اعصاب کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

نیپا کو کورونا سے بدتر کیوں کہا جاتا ہے؟

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نیپا وائرس کورونا وائرس کے مقابلے میں بہت کم پھیلتا ہے لیکن انفیکشن کے لحاظ سے یہ کہیں زیادہ مہلک وائرس ہے۔ 

کورونا وائرس سے متاثرہ 100 مریضوں میں سے ایک یا دو کی موت ہوتی ہے جبکہ نیپا وائرس کے انفیکشن سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔

نیپا وائرس سے 30 سے 40 فیصد متاثرہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

نیپا وائرس اور علاج 

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق نیپا وائرس خطرناک ترین بیماریوں میں سے ایک ہے جس کا تاحال کوئی علاج سامنے نہیں آیا ہے، یہ براہ راست دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے، عین ممکن ہے کہ ہم اس کا نام مستقبل میں بار بار سنیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت کا بتانا ہے کہ انسانوں یا جانوروں میں نیپا وائرس کے علاج کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین نہیں بنائی جا سکی، یہ وائرس ایشیا میں خصوصاً بھارت میں کئی بار پھیل چکا ہے۔



اپنی رائے کا اظہار کریں