استحکام پاکستان پارٹی نئی حلقہ بندیوں پر انتخابات پر متفق

استحکام پاکستان پارٹی نئی حلقہ بندیوں پر انتخابات پر متفق

لاہورمیں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے مطابق کروانے پر اتفاق کیا گیا۔

آئی پی پی رہنماؤں کا کہنا ہے وہ کسی پارٹی کی بی ٹیم نہیں، انتخابات میں مقابلہ ن لیگ سے ہوگا، الیکشن کی تاریخ کےلیے الیکشن کمیشن پر اعتبار کرنا چاہیے۔

استحکام پاکستان پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس پیٹرن انچیف جہانگیر ترین اور صدر عبدالعلیم خان کی زیرصدارت ہوا۔

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں فردوس عاشق اعوان اور اسحاق خاکوانی کا کہنا تھا کہ عام انتخابات حلقہ بندیاں مکمل ہونے پر ہونے چاہیے۔ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں اور اداروں سے بات کرکے الیکشن کی تاریخ دے گا۔

آئی پی پی رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ صدر نے آئینی مدت پوری کرکے ایکسٹرا اننگز شروع کی ہے، ملکی مفاد کوداؤ پر لگانے کی بجائے آئین کی پاسداری کریں۔

فردوس اعوان نے کہا کہ آج کی میٹنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم ایک جمہوری جماعت ہیں، ہمارے منشور میں عوام دوست ایجنڈا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو مسائل سے نجات دلانے کے لیے رہنماؤں نے حکمت عملی وضع کی ہے، بجلی کے بھاری بلوں سے نجات دلانے کے لیے بطور پارٹی حکمت عملی پر بات ہوئی ہے۔

اسحاق خاکوانی نے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ ہے کہ الیکشن حلقہ بندیوں کے بعد ہوناچاہیے، سی ای سی کے ممبران کو کہا گیا ہے جلد پارٹی کی تنظیم سازی کریں۔

ترجمان آئی پی پی پنجاب ہاشم ڈوگر کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو گھروں میں بیٹھے ہیں انہیں پارٹی میں لانے کے لیے 8 رکنی کمیٹی بنائی جارہی ہے، عام انتخابات میں آئی پی پی اور ن لیگ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

آئی پی پی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن کی جماعت بجلی بلوں میں ریلیف سمیت دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی دے گی۔



اپنی رائے کا اظہار کریں