سیاسی رہنماؤں نے صدر علوی کے خط کو سیاسی اقدام قرار دے دیا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ۔ فوٹو: فائل
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ۔ فوٹو: فائل

سیاسی رہنماؤں نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خط کو جانب داری اور سیاسی اقدام قرار دے دیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے چیف الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط پر سیاسی رہنماؤں نے رد عمل دے دیا ہے۔

عارف علوی نے 6 نومبر 2023 کو عام انتخابات کروانے کی تجویز دے دی، اس حوالے سے صدر مملکت نے چيف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو خط بھی لکھ دیا۔

خط میں صدر مملکت نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کروانے کے لیے اعلیٰ عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما زاہد خان نے جیو نیوز سے گفتگو کی۔

ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 2017 کی ترمیم کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اختیار الیکشن کمیشن کو ہے، صدر مملکت نے بلاوجہ اپنی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلا کر پوچھا، مشاورت ہوئی کہ نئی مردم شماری، نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن ہوں گے، صدر مملکت ان چیزوں میں نہ جائیں بلا وجہ کی جانبداری نہ کریں۔

ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن 60 روز میں حلقہ بندیوں کا کام کرسکتا ہے، مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی آڑ میں کچھ لوگ سیاست چمکا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ صدر مملکت کے خط کا جواب الیکشن کمیشن پہلے دے چکا ہے، ن لیگ کے مختلف لیڈروں نے کہا ہے کہ فروری یا جنوری میں الیکشن ہوں گے، جماعتوں کے درمیان کوئی تنازع نہیں کہ الیکشن کی تاریخ کا صدر کے پاس اختیار نہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما زاہد خان نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ آئین کا تقاضا ہے کہ 90 دن میں الیکشن کروائیں، الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا کام جاری ہے ہمیں مشکلات ہیں، صدر مملکت کا الیکشن سے متعلق خط ان کا سیاسی اقدام ہے، صدر مملکت کا رویہ غیر جانبدارانہ نہیں ہے۔



اپنی رائے کا اظہار کریں