جرمن فٹبالر رابرٹ باؤر نے کب اور کیسے اسلام قبول کیا؟

رابرٹ باؤر— فائل فوٹو
رابرٹ باؤر— فائل فوٹو  

جرمنی کے معروف فٹبالر رابرٹ باؤر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کئی سال پہلے دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔

رابرٹ باؤر نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹا گرام پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے۔

اُنہوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ہے کہ مجھ سے میرے متعلق کافی سوالات پوچھے جا رہے ہیں اس لیے آپ سب کو اپنی کہانی بتا رہا ہوں۔

جرمن فٹبالر نے بتایا کہ میں جرمنی میں مقیم قازقستانی مسیحی والدین کے ہاں پیدا ہوا تھا جو 1994ء میں جرمنی منتقل ہوئے تھے۔

اُنہوں نے بتایا کہ میری دبئی میں اپنی اہلیہ سے پہلی بار ملاقات ہوئی جو پیدائشی مسلمان ہیں اور اسلامی تعلیمات پر عمل بھی کرتی ہیں، وہ تنزانیہ میں پیدا ہوئیں، ان کے والد کا تعلق تنزانیہ سے جبکہ والدہ ترک ایرانی ہیں۔

رابرٹ باؤر نے بتایا ہے کہ میری اہلیہ کی پرورش دبئی میں ہوئی اور ان کی فیملی بھی وہیں مقیم ہے، میں نے کئی سال پہلے جب میری شادی ہوئی تھی اس وقت اسلام قبول کیا تھا لیکن میں اس وقت اسلام کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتا تھا۔

اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزرتے وقت کے ساتھ میں نے بہت کچھ سیکھا لیکن اب سعودی عرب آنے کے بعد میں اسلام کے بارے میں گرم جوشی محسوس کرتا ہوں اور دوبارہ شہادت کہنا چاہتا ہوں، قرآن کو پڑھنا، سیکھنا اور اس پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔

رابرٹ باؤر نے اپنی پوسٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے آپ سب کی طرف سے اتنی محبت مل رہی ہے اور میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے پرجوش ہوں۔

اُنہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری پر اپنے سسر ناصر اور بیٹے عیسیٰ کے ہمراہ نماز ادا کرتے ہوئے بھی اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے۔

جرمن فٹبالر رابرٹ باؤر نے کب اور کیسے اسلام قبول کیا؟

یاد رہے کہ رابرٹ باؤر رواں سال مئی میں سعودی عرب کے الطائی فٹبال کلب کے ساتھ ایک سالہ معاہدہ کرنے کے بعد سے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔



اپنی رائے کا اظہار کریں