شیخ رشید کی حراست، وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب

شیخ رشید—فائل فوٹو
شیخ رشید—فائل فوٹو

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ، سابق وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کی حراست کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔

شیخ رشید کی حراست کے خلاف درخواست کی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت شیخ رشید کے وکیل ایڈووکیٹ سردار عبدالرازق خان عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالتِ عالیہ نے آر پی او، سی پی او، آئی جی پنجاب اور وفاقی حکومت سے شیخ رشید کی حراست کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ہدایت کی کہ شیخ رشید کی حراست سے متعلق فریقین 22 ستمبر تک رپورٹ جمع کرائیں۔

’’ٹھوس شواہد ہیں شیخ رشید کے گھر راولپنڈی پولیس نے چھاپہ مارا‘‘

شیخ رشید کے وکیل نے عدالت میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ شیخ رشید کے گھر پر راولپنڈی پولیس نے چھاپہ مارا۔

ان کا کہنا ہے کہ شیخ رشید سے متعلق ابھی تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، شیخ راشد شفیق کو بتایا گیا ہے کہ ایک دو دن تک پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

شیخ رشید کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت نے 3 دن کے اندر وفاقی حکومت اور راولپنڈی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ شیخ رشید کے ڈرائیور سجاد کو رہا کیا گیا ہے اس نے بھی کچھ تفصیلات بتائی ہیں، ہمارے پاس نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکیورٹی کیمرے کی ویڈیو اور گواہ موجود ہیں۔

شیخ رشید کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی نے شیخ رشید کے گھر پر چھاپہ مارا، شیخ رشید کے خلاف پنجاب میں کوئی مقدمہ درج نہیں۔



اپنی رائے کا اظہار کریں