منہ پر کیک لگانا پسند نہیں آیا، دلہن نے طلاق مانگ لی

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

دلہن کو شادی کی تقریب کے دوران دولہا کا منہ پر کیک لگانا پسند نہیں آیا اس لیے طلاق مانگ لی۔

ایک گمنام دلہن نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ریڈ اِٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی جسے اب ڈیلیٹ کردیا گیا ہے۔

اس نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ میرے شوہر نے شادی کی تقریب میں میرے منہ پر کیک لگایا اس لیے میں نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا اورطلاق مانگ لی۔

گمنام دلہن نے اپنی طویل پوسٹ میں اپنے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب میں 17 سال کی ہوئی تو میری سالگرہ کے موقع پر میں نے موم بتیاں بجھائیں اور کیک کاٹا تو میری والدہ  نے میرا سر کیک میں ڈال دیا اور کیک پر کی گئی سجاوٹ میں سے موجود ایک نوکیلی چیز سے میری پیشانی زخمی ہوگئی اور اسپتال جانے کی نوبت تو نہیں آئی لیکن کافی خون بہہ گیا تھا اور  میری سالگرہ برباد ہو گئی تھی، اس کے بعد میں اپنے کمرے سے باہر نہیں آئی تھی، میری والدہ آج بھی مجھے اس واقعہ کی وجہ سے بگڑی ہوئی کہتی ہیں۔

اس نے بتایا کہ میں نے اپنے شوہر کو پہلے ہی سالگرہ والے واقعہ کے بارے میں بتا کر وارننگ دی تھی کہ اگر آپ نے میرے ساتھ ایسا کچھ بھی کیا تو میں آپ کو چھوڑ دوں گی لیکن اُنہوں نے میری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

گمنام دلہن نے بتایا کہ اس وارننگ کے باوجود شادی کے دن میرے شوہر نے ہماری شادی کے کیک کا ایک بہت بڑا ٹکڑا نکالا اور اسے میرے چہرے پر لگا دیا، اس سے نہ صرف میرا میک اپ، بال اور لباس خراب ہوا بلکہ میرے اعتماد کو بھی نقصان پہنچا۔

اس نے بتایا کہ میری فیملی اور اس کی فیملی والے کئی دنوں سے مجھے فون کرکے کہہ رہے ہیں کہ میرا رویہ بچکانہ ہے اور میرا شوہر ایک اچھا آدمی ہے اس نے صرف ایک مذاق کیا تھا۔

گمنام دلہن نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے شوہر نے بھی اس سے بات کرنے اور معافی مانگنے کے لیے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

اس نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار دن ہونا چاہیئے تھا اور میرے شوہر نےمجھے سب کے سامنےایسا مذاق کرکے شرمندہ کیا جس سے مجھے سخت نفرت ہے۔



اپنی رائے کا اظہار کریں