ایران میں لباس قوانین کی خلاف ورزی پر خواتین کو سزائیں دینے کا بل منظور

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایران میں پارلیمنٹ نے ایک متنازع بل منظور کیا ہے جس کے تحت حجاب اور لازمی لباس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو سخت سزائیں دی جاسکیں گی۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق اسلامی ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو زیادہ سے زیادہ 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی اور ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بدھ کے روز اراکین اسمبلی نے آزمائشی بنیادوں پر قانون سازی کی 3 سال کی مدت کی منظوری دی، جس کے حق میں 152 اور مخالفت میں 34 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 7 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

رپورٹس کے مطابق اس بل کو لاگو کرنے سے پہلے اسے گارڈین کونسل جو کہ علما اور قانونی ماہرین پر مشتمل ایک طاقتور نگران ادارہ ہے سے منظور کرانے کی ضرورت ہوگی۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران میں 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے بعد سے نافذ العمل ضابطۂ لباس کے تحت خواتین کے لیے سر اور گردن کو ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران میں حکام اور پولیس نے حالیہ مہینوں میں ایسی خواتین اور کاروباری اداروں کے خلاف اقدامات میں اضافہ کیا ہے جو ضابطۂ لباس پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ مہینوں میں اس ضابطے کی تعمیل نہ کرنے پر کئی کاروبار بند کیے گئے اور بڑے شہروں میں ضابطۂ لباس کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے عوامی مقامات پر کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران میں گزشتہ برس بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد سے خواتین ملک میں نافذالعمل سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کرتی نظر آرہی ہیں۔

یاد رہے کہ مہسا امینی ایرانی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 16 ستمبر کو پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگئی تھیں جس کے بعد ایران بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

مہسا امینی کی موت کے بعد مظاہروں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔



اپنی رائے کا اظہار کریں